اتوار، 20 دسمبر، 2020

سلسلہ نمبر 1

 سلسلہ نمبر 1 


سوال نمبر 1: اللہ تعالی کو اللہ میاں کہنا کیسا ہے؟ 

سوال نمبر 2: نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟ 

سوال نمبر 3: سب سے پہلے نبی کون ہیں؟  

سوال نمبر 4: سب سے پہلے رسول کون ہیں؟ 


جواب نمبر 1: اللہ تعالی کو اللہ میاں کہنا منع ہے ۔ اللہ تعالی ،اللہ عزوجل وغیرہ کہنا چاہئیے ۔ چنانچہ اعلی حضرت عظیم البرکت، عظیم مرتبت، مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے لئے میاں کا لفظ نہ بولا جائے کہ یہ تین معنیٰ رکھتا ہے، آقا اور شوہر اور مرد وعورت میں زنا کا دلال، ان میں دو رب العزت کے لئے محال (یعنی ناممکن) ہیں، لھٰذا اطلاق (یعنی بولنا)  ممنوع ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 14 ۔ ص 614)


جواب نمبر 2: دو طرح کا فرق ہے : 

(1) نبی صرف بشر اور مرد ہی ہوسکتا ہے 

(2) رسول صرف بشر ہی  نہیں بلکہ فرشتے بھی رسول ہیں ۔ (بہار شریعت : ج1 ص28 ،ملخصا) 


جواب نمبر 3: دنیا میں تشریف لانے کے اعتبار سے سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں ۔ ورنہ ہمارے نبی جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اول بھی ہیں اور آخر بھی ۔ 

اعلی حضرت فرماتے ہیں :

وہی ہے اول وہی ہے آخر وہی ہے ظاہر وہی ہے باطن 

اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھے 

اور ایک شاعر نے کہا: 

نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر 

وہی ظاہر وہی باطن وہی طٰہٰ وہی یٰسین 


جواب نمبر 4: سب سے پہلے رسول جو کفار پر بھیجے گئے وہ حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام ہیں ۔صحیح مسلم ،کتاب الایمان ۔الحدیث 193)


                  🖌️محمد نعمت اللہ قادری مصباحی 


مسئلہ نمبر 1

 

سوال: وضو میں فرض عملی کتنے ہیں؟ 

                     الجواب بعون الملک الوہاب
وضو میں فرض عملی بارہ ہیں : امام اھلسنت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃ والرضوان نے فتاوی رضویہ، جلد 1 ۔ رسالہ مبارکہ " الجود الحلو فی ارکان الوضو" میں اسے تفصیلا تحریر فرمایا ہے، جس کی تلخیص مندرجہ ذیل ہے :
(1) دونوں لب،  حق یہ ہے ان کا دھونا فرض ہے ۔
(2.3.4)بھؤوں، مونچھوں اور بچی کے نیچے کی کھال جبکہ بال چھدرے ہوں ،کھال نظر آتی ہو، وضو میں بھی دھونا فرض ہے ۔ہاں گھنے ہوں کہ کھال بالکل نہ دکھائی دے تو وضو میں ضروری نہیں، غسل میں جب بھی ضروری ہے ۔
(5) داڑھی چھدری ہو تو اس کے نیچے کی کھال کا دھلنا فرض ہے، اور گھنی ہوتو جس قدر بال دائرہ رخ میں داخل ہیں ان سب کا دھونا فرض ہے ۔
(6) کنپٹیاں، کان اور رخسار کے بیچ میں جو حصہ ہے اس کا دھونا فرض ہے ۔ جتنا حصہ داڑھی اور کان کے بیچ میں ہے وہ تو مطلقا اور جتنا بالوں کے نیچے ہے اگر بال چھدرے ہوں تو وہ بھی، ہاں گھنے ہوتو اس کا فرض بالوں کی طرف منتقل ہوجائے گا ۔
(7) دونوں کہنیاں تمام وکمال ۔
(8) انگوٹھی ،چھلے وغیرہا جائز ناجائز ہر قسم کے گہنے مرد عورت سب کے لئے جب تک کہ تنگ ہوں کہ بے اتارے ان کے نیچے پانی نہ بہے گا اتار کر دھونا فرض ہے ورنہ ہلا ہلا کر پانی ڈالنا کہ ان کے نیچے بہہ جائے مطلقا ضرور ۔
(9) مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جوبال ہیں (نہ وہ کہ سر سے نیچے لٹکتے ہیں)  ان پر پہنچنا فرض ہے ۔
(10) نم  کم از کم چوتھائی سر کو استیعاب کرلے
(11) کعبین، گٹوں یعنی ٹخنوں کام ان کے بالائی کناروں سے ناخنوں کے منتھے تک ہر حصے پرزے ذرّے ذرّے کا دھلنا فرض ہے ۔
(12) منہ، ہاتھ، پاؤں تینوں عضوؤں کے تمام مذکور ذرّوں پر پانی کا بہنا فرض ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج 1، ص 248۔ مرکز اھلسنت برکات رضا) 
                    واللہ تعالی اعلم بالصواب
            کتبہ : محمد نعمت اللہ قادری مصباحی
المدرس : بالجامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم مالیگاوں

سلسلہ نمبر 1

 سلسلہ نمبر 1  سوال نمبر 1: اللہ تعالی کو اللہ میاں کہنا کیسا ہے؟  سوال نمبر 2: نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟  سوال نمبر 3: سب سے پہلے نبی کو...