سوال: وضو میں فرض عملی کتنے ہیں؟
الجواب بعون الملک الوہاب
وضو میں فرض عملی بارہ ہیں : امام اھلسنت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃ والرضوان نے فتاوی رضویہ، جلد 1 ۔ رسالہ مبارکہ " الجود الحلو فی ارکان الوضو" میں اسے تفصیلا تحریر فرمایا ہے، جس کی تلخیص مندرجہ ذیل ہے :
(1) دونوں لب، حق یہ ہے ان کا دھونا فرض ہے ۔
(2.3.4)بھؤوں، مونچھوں اور بچی کے نیچے کی کھال جبکہ بال چھدرے ہوں ،کھال نظر آتی ہو، وضو میں بھی دھونا فرض ہے ۔ہاں گھنے ہوں کہ کھال بالکل نہ دکھائی دے تو وضو میں ضروری نہیں، غسل میں جب بھی ضروری ہے ۔
(5) داڑھی چھدری ہو تو اس کے نیچے کی کھال کا دھلنا فرض ہے، اور گھنی ہوتو جس قدر بال دائرہ رخ میں داخل ہیں ان سب کا دھونا فرض ہے ۔
(6) کنپٹیاں، کان اور رخسار کے بیچ میں جو حصہ ہے اس کا دھونا فرض ہے ۔ جتنا حصہ داڑھی اور کان کے بیچ میں ہے وہ تو مطلقا اور جتنا بالوں کے نیچے ہے اگر بال چھدرے ہوں تو وہ بھی، ہاں گھنے ہوتو اس کا فرض بالوں کی طرف منتقل ہوجائے گا ۔
(7) دونوں کہنیاں تمام وکمال ۔
(8) انگوٹھی ،چھلے وغیرہا جائز ناجائز ہر قسم کے گہنے مرد عورت سب کے لئے جب تک کہ تنگ ہوں کہ بے اتارے ان کے نیچے پانی نہ بہے گا اتار کر دھونا فرض ہے ورنہ ہلا ہلا کر پانی ڈالنا کہ ان کے نیچے بہہ جائے مطلقا ضرور ۔
(9) مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جوبال ہیں (نہ وہ کہ سر سے نیچے لٹکتے ہیں) ان پر پہنچنا فرض ہے ۔
(10) نم کم از کم چوتھائی سر کو استیعاب کرلے
(11) کعبین، گٹوں یعنی ٹخنوں کام ان کے بالائی کناروں سے ناخنوں کے منتھے تک ہر حصے پرزے ذرّے ذرّے کا دھلنا فرض ہے ۔
(12) منہ، ہاتھ، پاؤں تینوں عضوؤں کے تمام مذکور ذرّوں پر پانی کا بہنا فرض ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج 1، ص 248۔ مرکز اھلسنت برکات رضا)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ : محمد نعمت اللہ قادری مصباحی
المدرس : بالجامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم مالیگاوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں